حیدرآباد31؍دسمبر(ایس او نیوز؍یواین آئی)تلنگانہ کی حکمران جماعت ٹی آرایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ نے اس یقین کا اظہا رکیا ہے کہ تلنگانہ میں لوک سبھا کی17نشستوں کے منجملہ16نشستوں پر ان کی پارٹی کامیابی حاصل کرتے ہوئے مرکز میں اہم رول ادا کرے گی۔انہوں نے کہاکہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں این ڈی اے کو حکومت بنانے کا موقع نہیں مل پائے گا ، این ڈی اے 150نشستوں اور یو پی اے100نشستوں کے ہندسہ کو عبور نہیں کر پائے گی ،ملک بھر میں بی جے پی کے اثر میں کمی ہوئی ہے ۔کے ٹی راما راؤ جو تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے چندرشیکھرراؤ کے فرزند ہیں نے کہاکہ ان کے والد کی جانب سے شروع کردہ اسکیمات ملک بھر میں مقبول ہورہی ہیں اور تلنگانہ اس معاملہ میں ملک کیلئے نمونہ بن گیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اوڈیشہ جھارکھنڈ کی ریاستیں ان اسکیموں کی تقلید کر رہی ہیں۔مودی حکومت نے خود ان میں ترمیم کرتے ہوئے ان اسکیمات کا آغاز کیا ہے ۔انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات کے بعد ٹی آرایس مرکز میں فیصلہ کن رول ادا کرے گی۔انہوں نے شہر حیدرآباد کے کوکٹ پلی علاقہ میں حکمران جماعت ٹی آرایس کے حلقہ واری اجلاس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں وزیراعظم نریندر مودی،بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ ،بی جے پی برسراقتدار ریاستوں کے 6وزرائے اعلیٰ،11مرکزی وزرا کی جانب سے بڑے پیمانہ پر تلنگانہ میں انتخابی تشہیری مہم کے باوجود یہاں ٹی آرایس کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی ، بی جے پی کو صرف ایک حلقہ میں ہی کامیابی مل پائی۔103مقامات پر بی جے پی کے امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوئی ۔انہوں نے کہاکہ کسانوں کے مسائل کو ٹی آرایس ملک کے ایجنڈہ میں شامل کرنا چاہتی ہے ۔یہ اسکیمات ملک کے لئے نمونہ ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ حالیہ اسمبلی انتخابات کے موقع پر فہرست رائے دہندگان سے ناموں کے غائب ہونے کے سبب ٹی آرایس کے کئی امیدواروں کی اکثریت میں کمی ہوئی ۔انہوں نے پارٹی کیڈر پر زور دیاکہ وہ فہرست رائے دہندوں میں ناموں کی شمولیت کے لئے مساعی شروع کردیں اور لوک سبھا انتخابات میں ٹی آرایس کے امیدواروں کی اکثریت میں کمی نہیں آنی چاہئے ۔فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کے عمل کا آغاز26دسمبر سے ہوا ہے جو24جنوری تک جاری رہے گا۔